بھٹکل:5/فروری (ایس او نیوز) وزیر اعظم مودی نے بڑی امیدوں کے ساتھ لڑکیوں کے مستقبل کے تحفظ کو لے کر سُکنیا نامی ایک اسکیم شروع کی تھی، جس کا استعمال کرتے ہوئے بھٹکل تعلقہ کے بائیلور پوسٹ آفیس کا ایک عملہ اپنی جھولی بھر رہا تھا، جس پر اُس کو معطل کردیا گیا ہے۔
اسکیم کے مطابق لڑکیوں کے نام پر سالانہ 1000ہزارروپئے 14سال تک بطور ضمانت رکھنا ہوتا ہے، اس کے بعد لڑکی کو 18سال مکمل ہونے کے بعد اس کی تعلیم پھر اسکے بعد شادی کے اخراجات کے لئے حکومت سود سمیت رقم ادا کرتی ہے، اسمنصوبے کو ’’ سکنیا ‘‘ اسکیم کہا جاتاہے، اس منصوبے کا ملک بھر میں بہت چرچا رہا۔ ملک کے کروڑوں لوگوں نے متعلقہ منصوبے سے استفادہ کی غرض سے پوسٹ آفس میں اپنے اکاؤنٹ کھول کر رقم ضمانت کے طورپر ادا کرنا شروع کردیا۔ لیکن پتہ چلا ہے کہ تعلقہ کے بائیلورو پوسٹ آفس میں عوام کی طرف سے جمع کردہ متعلقہ رقم کو پوسٹ آفس کا عملہ ہضم کررہا تھا۔ عوام کی رقم ان کے اکاؤنٹ میں جمع کرنے کے بجائے صرف پاس بک میں رقم جمع کرکے مہر لگا کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا تھا۔ گھپلے کا پتہ چلتے ہی پوسٹ آفس کے آفیسران نے جانچ شروع کی، جس کے نتیجے میں لاکھوں روپئے کی ہیرا پھیری ہونے کی تصدیق ہوئی، جس کی بنیاد پر متعلقہ عملہ کو معطل کیا گیا ہے۔
عوام کے پاس بک کی جانچ کی جارہی ہے، سکنیا منصوبے میں گھپلہ ہونے کی اطلاع ملتے ہی عوام برہم ہوکر سنیچر کو پوسٹ آفس کا گھیراؤ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ اس سلسلے میں پوسٹ آفس کے اعلیٰ افسر کرشنانائک نے بتایا کہ ظاہری طورپربائیلورو پوسٹ آفس میں رقم کی ہیراپھیری کی تصدیق ہوئی ہے ۔مزید جانچ جاری ہے، ابھی تک کتنی رقم کا گول مال ہواہے، اس کا پتہ نہیں چلاہے، البتہ پوسٹ آفس کے ذمہ داران نے عوام کو یقین دلایا ہے کہعوام سےدھوکہ دہی ہونے کی تصدیق ہونے پر متعلقہ لوگوں کو اُن کی رقم کی بھرپائی کی جائے گی۔